حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی کانفرنس "تحققِ وعدۂ انتقام" کی اختتامی تقریب اسلامی ثقافتی و فکری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور حوزوی کمپلیکس امام رضاؑ کے مشترکہ اہتمام سے، جبکہ ملک کے متعدد علمی و ثقافتی اداروں کے تعاون سے، اسلامی ثقافتی و فکری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے علامہ جعفریؒ ہال میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر کانفرنس کے علمی سیکرٹری حجت الاسلام مہدی گرامی پور نے بتایا کہ یہ کانفرنس مشہد، قم اور تہران میں بھی منعقد کی گئی اور اسے حوزہ و یونیورسٹی کے دانشوروں، نیز مختلف دینی، ثقافتی اور علمی مراکز کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کے علمی اور تحقیقی اجلاسوں میں "انتقام" اور "امامِ شہید کے خون کے انتقام" کے مختلف پہلوؤں کا قرآن کریم، اہل بیتؑ کی روایات و احادیث اور تاریخی مصادر کی روشنی میں جامع جائزہ لینے کی کوشش کی گئی۔
انتقام کی بحث صرف ایک جذباتی یا وقتی ردِعمل کا نام نہیں
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس "تحققِ وعدۂ انتقام" نے اس امر کو واضح کرنے کی کوشش کی کہ انتقام کی بحث محض ایک جذباتی، احساسی یا ہیجانی موضوع نہیں، بلکہ اس کی بنیاد قرآنِ کریم اور اہل بیتؑ کی روایات میں بھی موجود ہے۔
حجت الاسلام مہدی گرامی نے کہا کہ انتقام ایک ضابطہ مند اور کثیرالجہتی مسئلہ ہے۔ اسے صرف فقہی یا صرف اصولی زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ الٰہیات، شہید کے خون کی حرمت و کرامت، تمدنی نقطۂ نظر اور دشمنوں کے مقابلے میں پیچھے نہ ہٹنے جیسے مختلف پہلوؤں سے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کا خون امتِ اسلامی میں بیداری پیدا کرنے اور محاذِ مقاومت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کا حاصل یہ تھا کہ اسلامی منطق میں انتقام، عدم توجہ اور محض جذباتی کارروائی سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا دائرہ قرآن، دینی مبانی، فقہی اصول، تاریخی شواہد اور اخلاقی اقدار کے مطابق متعین ہوتا ہے۔ ہر جرم کے جواب کو تشدد قرار نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح امامِ شہید کے خون کا مطالبہ اور اس کی جستجو بین الاقوامی اصولوں اور بین الاقوامی اداروں کے قوانین کے مطابق بھی قابلِ تحقیق ہے۔
"وعدۂ انتقام" کی تکمیل کسی ایک اقدام یا ایک لمحے تک محدود نہیں
بین الاقوامی کانفرنس "تحققِ وعدۂ انتقام" کے علمی سیکرٹری نے کہا کہ اس کانفرنس کے اہم نتائج میں عدالت خواہی کا تسلسل اور جنگِ رمضان کے دوران ہونے والے جرائم کی بین الاقوامی عدالتوں اور عالمی اداروں میں قانونی کاروائی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتقام کے وعدے کی تکمیل کسی ایک اقدام یا ایک لمحے میں خلاصہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک تدریجی، مسلسل اور صبر و استقامت پر مبنی عمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتقام اور خونِ شہید کا مطالبہ کب اور کس طریقے سے کیا جائے، اس کا فیصلہ شرعی جواز، عوامی مقبولیت اور قومی سلامتی جیسے اہم اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ